Monday, March 26, 2012
سلام ربی علی نبی صل اللہ علیہ والہ وسلم (حصہ دوم)۔
محمد محمد وظیفہ ہے میرا
وہ بندہ ہے لیکن حقیت نما ہے
کرم ہی ہوا ،جب ضرورت پڑی ہے
وریٰ الوریٰ تک سفر ہو گیا
میں قدموں کو چوموں یہ دل چاہتا ہے
مدینہ محمد کی چھاؤں میں ہے
اُن کی جس دَم کرم کی نظر ہوگئی
نظر اپنی اُمّت پہ رَکھتے ہیں وہ
میرے آقا کی نسبت بڑی چیز ہے
اسی دَر کا آقا بَھرم چاہتا ہوں
مناجات
Subscribe to:
Comments (Atom)











